عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَبُو النَّضْرِ ، رَجُلٌ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ، رَجُلٌ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُؤَاخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنوتمیم کے ایک قدیم آدمی نے سیدنا عثمان کے دور باسعادت میں اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا کہ ان کی ملاقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی تو عرض کیا: کہ یا رسول اللہ! مجھے اس مضمون کی ایک تحریری لکھ کر دیں کہ کسی کے جرم میں مجھے نہ پکڑا جائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے اور ہر مسلمان کے لئے یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15937]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل من بني تميم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل من بني تميم