أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ يُوَاقِعُ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ؟ قَالَ:" إِنْ أَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ، وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَإِنْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ أَمَتُهُ وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کی باندی پر جا پڑے تو کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہو جائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہو گا اور اگر یہ کام اس کی رضامندی سے ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ومبارك بن فضالة يدلس تدليس التسوية
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ومبارك بن فضالة يدلس تدليس التسوية