أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٌ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَفَّانُ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ، فَأَكَلَ، فَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةٌ، فَقَالَ:" يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، يَأْكُلُ هَذِهِ الْفَضْلَةَ"، قَالَ سَعْدٌ: وَقَدْ كُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَتَهَيَّأُ، لِأَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَطَمِعْتُ أَنْ يَكُونَ هُوَ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں موجود کھانا تناول فرمایا، اس میں سے کچھ بچ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس راہداری سے ابھی ایک جنتی آدمی آئے گا جو یہ بچا ہوا کھانا کھائے گا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہاں سے عمیر ہی آئے گا، لیکن وہاں سے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے وہ کھانا کھایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1591]
حکم دارالسلام
إسناده حسن .
الحكم: إسناده حسن .