أَبُو مُعَاوِيَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ ، أَبِيهِ ، عَلْقَمَةَ ، بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رِضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِهَا رِضْوَانَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، مَا يَظُنُّ أَنْ تَبْلُغَ مَا بَلَغَتْ، يَكْتُبُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". قَالَ: فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَقُولُ: كَمْ مِنْ كَلَامٍ قَدْ مَنَعَنِيهِ حَدِيثُ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا بلال بن حارث سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات انسان اللہ کی رضامندی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے کہ جس کے متعلق اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے لیکن اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے قیامت تک رضامندی کا پروانہ لکھ دیتا ہے اور بعض اوقات انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایساکلمہ کہہ دیتا ہے جس کے متعلق اسے خبر بھی نہیں ہو تی کہ اس کی کیا حثیت ہو گی لیکن اللہ اس کی وجہ سے اس کے لئے قیامت تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔ راوی حدیث علقمہ کہتے ہیں کہ کتنی ہی باتیں جنہیں کرنے سے مجھے سیدنا بلال کی یہ حدیث روک دیتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15852]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن علقمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن علقمة