عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، مُجَاهِدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَقْل" , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْحَقْلُ؟ قَالَ: الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ , فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ كَرِهَ الثُّلُثَ وَالرُّبُعَ، وَلَمْ يَرَ بَأْسًا بِالْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ يَأْخُذُهَا بِالدَّرَاهِمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حقل سے منع فرمایا ہے راوی نے پوچھا کہ حقل سے کیا مراد ہے انہوں نے جواب دیا کہ تہائی اور چوتھائی کے عوض زمین کو بٹائی پر دینا یہ حدیث سن کر ابراہیم نے بھی اس کے مکر وہ ہو نے کا فتوی دے دیا اور دراہم کے عوض زمین لینے پر کوئی حرج نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15811]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مجاهد لم يسمع من رافع بن خديج
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مجاهد لم يسمع من رافع بن خديج