وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ ابْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ فِي مَهْرِ امْرَأَةٍ، فَقَالَ:" كَمْ أَمْهَرْتَهَا؟" قَالَ: مِئَتَيْ دِرْهَمٍ , فَقَالَ:" لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ مِنْ بَطَحَانَ مَا زِدْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوحدرد اسلمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنی بیوی کے مہر کے سلسلے میں تعاون کی درخواست لے کر حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے اس کا مہر کتنا مقرر کیا تھا انہوں نے کہا دو سو درہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم بطحان سے بھی پانی کے چلو بھر کر نکالتے تو اس سے اضافہ نہ کرتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15706]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من أبى حدرد
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، محمد بن إبراهيم لم يسمع من أبى حدرد