بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15664
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15664
حدیث نمبر: 15664 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ , قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ يَعُودُهُ، قَالَ: فَبَكَى , قَالَ: فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: مَا يُبْكِيكَ يَا خَالُ، أَوَجَعًا يُشْئِزُكَ أَمْ حِرْصًا عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: فَقَالَ: فَكُلًّا لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا هَاشِمٍ،" لعلك أن تُدْرِكُ أَمْوَالًا لَا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى" , وَإِنِّي أُرَانِي قَدْ جَمَعْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ اپنے ماموں ابوہاشم بن عتبہ کی عیادت کے لئے گئے سیدنا ابو ہاشم رونے لگے سیدنا معاویہ نے پوچھا کہ ماموں جان کیوں رو رہے ہو کسی جگہ درد ہو رہا ہے یا دنیا کی زندگی مزید چاہتے ہوانہوں نے فرمایا: دونوں میں سے کوئی بات نہیں ہے البتہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے ایک وعدہ لیا تھا اور فرمایا: تھا اے ابوہاشم ہو سکتا ہے کہ تمہیں اتنامال دولت عطا ہو جو بہت سی اقوام کو نہ مل سکے لیکن مال جمع کرنے میں تمہارے لئے ایک خادم اور اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے ایک سواری ہی کافی ہو نی چاہیے لیکن اب میں دیکھ رہاہوں کہ میں نے بہت سامال جمع کر لیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15664]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، شقيق بن سلمة لم يسمع هذا الحديث من أبى هاشم بن عتبة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، شقيق بن سلمة لم يسمع هذا الحديث من أبى هاشم بن عتبة
← پچھلی حدیث (15663) باب پر واپس اگلی حدیث (15665) →