أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، جَرِيرٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قُلْتُ لَأَلْبَسَنَّ ثِيَابِي وَكَانَ دَارِي عَلَى الطَّرِيقِ فَلَأَنْظُرَنَّ مَا يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ، فَوَافَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ مِنَ الْكَعْبَةِ، وَأَصْحَابُهُ قَدْ اسْتَلَمُوا الْبَيْتَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الْحَطِيمِ، وَقَدْ وَضَعُوا خُدُودَهُمْ عَلَى الْبَيْتِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَهُمْ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ:" صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبدالرحمن بن صفوان سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکر مہ فتح کر لیا تو میں نے اپنے دل میں سوچا کہ گھر جآ کر جوراستے میں ہی تھا کہ کپڑے پہنتاہوں اور دیکھتاہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے ہیں چنانچہ میں چلا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچا جب آپ خانہ کعبہ سے باہر آچکے تھے صحابہ کرام استلام کر رہے تھے انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ پر رکھے ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سب کے درمیان میں تھے میں نے سیدنا عمر سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر کیا کیا تو انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15553]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد