بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15543
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15543
حدیث نمبر: 15543 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْقَلِبُ بِالرَّجُلِ، وَالرَّجُلُ بِالرَّجُلَيْنِ، حَتَّى بَقِيتُ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا" , فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا" , فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ جَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلَ الْقَطَاةِ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا" , فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ جَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ" , فَقُلْتُ: لَا , بَلْ نَنْطَلِقُ إِلَى الْمَسْجِدِ , قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا مِنَ السَّحَرِ مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَال:" إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَبْغُضُهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى" , فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یعیش بن طخفہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب اصحاب صفہ میں سے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حوالے سے لوگوں کو حکم دیا تو لوگ ایک ایک دو دو کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جانے لگے وہ کہتے ہیں کہ صرف پانچ آدمی رہ گئے جن میں سے ایک میں بھی تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے ساتھ چلو چنانچہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سیدنا عائشہ کے گھر چلے گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں پہنچ کر فرمایا: عائشہ ہمیں کھانا کھلاؤ وہ کچھ کھجوریں لے کر آئیں جو ہم نے کھالیں پھر وہ کھجور کا تھوڑ اسا حلوہ لے کر آئیں ہم نے وہ بھی کھالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ پانی پلاؤ چنانچہ وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئیں جو ہم سب نے پیا پھر ایک چھوٹا ساپیالہ لے کر آئیں جس میں دودھ تھا ہم نے وہ بھی پیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اگر چاہو تورات یہیں پر گزار لو اور چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ میں نے عرض کیا: کہ نہیں ہم مسجد میں ہی جائیں گے ابھی میں سحری کے وقت اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا سو ہی رہا تھا اچانک ایک آدمی آیا اور مجھے اپنے پاؤں سے ہلانے لگا اور کہنے لگا کہ لیٹنے کا طریقہ اللہ کو ناپسند ہے میں نے دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15543]
حکم دارالسلام
النهي عن النوم على البطن فيه، حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة، وقد اضطربوا فى اسمه واسم أبيه
الحكم: النهي عن النوم على البطن فيه، حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه، ولجهالة ابن طخفة، وقد اضطربوا فى اسمه واسم أبيه
← پچھلی حدیث (15542) باب پر واپس اگلی حدیث (15544) →