سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خُزَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ، وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا، وَتُقًى نَتَّقِيهَا، أَتَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى شَيْئًا؟ قَالَ:" إِنَّهَا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوخزامہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ یہ جو ہم علاج کرتے ہیں یا جھاڑ پھونک کرتے ہیں یاپرہیز کرتے ہیں کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کا کچھ حصہ بھی ٹال سکتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیزیں بھی تقدیر الٰہی کا حصہ ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15472]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على خطأ فيه، أخطأ فيه ابن عيينة، صوابه: عن الزهري، عن أبى خزامة، عن أبيه، و أبو خزامة مجهول
الحكم: إسناده ضعيف على خطأ فيه، أخطأ فيه ابن عيينة، صوابه: عن الزهري، عن أبى خزامة، عن أبيه، و أبو خزامة مجهول