بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15450
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15450
حدیث نمبر: 15450 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هُشَيْمٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ رَمْيَتِي، فَشَأْنُكُمْ بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عَقَبَةَ أُثَايَةَ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ، وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ، لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمیر بن سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر مقام عرج سے ہوا وہاں ایک گدھا پڑا ہوا تھا جو زخمی تھا ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ قبیلہ بہز کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! یہ میرا شکار کیا ہوا ہے آپ اس کے ساتھ جو چاہیں کر یں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر کو حکم دیا کہ اور انہوں نے اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے اور عقبہ اثایہ پر پہنچے تو وہاں ایک ہرن نظر آیا جس کے جسم میں ایک تیر پیوست تھا اور وہ ایک چٹان کے سائے میں ٹیڑھا ہو کر پڑا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی کو حکم دیا کہ تم یہیں ٹھہرو یہاں تک کہ سارے ساتھی آجائیں تاکہ اس پر کوئی شخص کوئی چیز نہ پھینک سکے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15450]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (15449) باب پر واپس اگلی حدیث (15451) →