هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ضَمْرَةُ ، ابْنِ شَوْذَبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، فَقَالَ: أَلَا أُرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَقَامَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ، فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قاسم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا عبدالرحمن بن ابزی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں ہم نے کہا کیوں نہیں چنانچہ انہوں نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی قرأت کی پھر رکوع کیا اور دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے اپنے مقام پر ٹھہر گئی پھر سر اٹھایا اور اتنی دیر کھڑے رہے کہ ہر عضو اپنی جگہ جم گیا اسی طرح دونوں سجدے کئے اور ان کے درمیان بیٹھے اور کھڑے ہو کر دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھی اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15371]
الحكم: إسناده صحيح