أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، هِشَامٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَجَدَ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَهُوَ عَلَى حِمْصَ يُشَمِّسُ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ فِي أَدَاءِ الْجِزْيَةِ، فَقَالَ لَهُ هِشَامٌ : مَا هَذَا يَا عِيَاضُ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ملک شام میں سیدنا ابن حزام کا گزر کچھ ذمیوں پر ہوا جنہیں سورج کی دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا انہوں نے پوچھا کہ ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے بتایا کہ ان پر کچھ ٹیکس واجب الاداء ہے۔ (ادانہ کر سکنے کی وجہ سے انہیں اس طرح سزا دی جاری ہے) انہوں نے فرمایا: عیاض یہ کیا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو عذاب دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15335]
حکم دارالسلام
«إسناد صحيح، م: 2613
الحكم: «إسناد صحيح، م: 2613