بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 15333
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 15333
حدیث نمبر: 15333 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، هِشَامٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيُّ , وَغَيْرُهُ , قَالَ: جَلَدَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ صَاحِبَ دَارِيَا حِينَ فُتِحَتْ، فَأَغْلَظَ لَهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ الْقَوْلَ، حَتَّى غَضِبَ عِيَاضٌ ثُمَّ مَكَثَ لَيَالِيَ، فَأَتَاهُ هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ فَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ هِشَامٌ لِعِيَاضٍ: أَلَمْ تَسْمَعْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا، أَشَدَّهُمْ عَذَابًا فِي الدُّنْيَا لِلنَّاسِ" , فَقَالَ عِيَاضُ بْنُ غَنْمٍ يَا هِشَامُ بْنَ حَكِيمٍ، قَدْ سَمِعْنَا مَا سَمِعْتَ، وَرَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ، فَلَا يُبْدِ لَهُ عَلَانِيَةً، وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ فَيَخْلُوَ بِهِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ، وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ لَهُ" , وَإِنَّكَ يَا هِشَامُ , لَأَنْتَ الْجَرِيءُ إِذْ تَجْتَرِئُ عَلَى سُلْطَانِ اللَّهِ، فَهَلَّا خَشِيتَ أَنْ يَقْتُلَكَ السُّلْطَانُ، فَتَكُونَ قَتِيلَ سُلْطَانِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح بن عبید وغیرہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عیاض بن غنم نے دار کا شہر فتح کیا تو اس کے گورنر کو کوڑے مارے اس پر سیدنا ہشام بن حکیم نے انہیں تلخ جملے کہے حتی کہ عیاض ان سے ناراض ہو گئے کچھ دن گزرنے کے بعد ہشام، ان کے پاس دوبارہ آئے اور ان سے معذرت کر کے کہنے لگے کہ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے سخت عذاب دیتا رہا ہو گا اس پر سیدنا عیاض نے کہا ہشام جیسے آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے اس طرح ہم نے بھی سنا ہے جیسے آپ نے دیکھا ہے ہم نے بھی دیکھا ہے لیکن کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جو شخص کسی معاملے میں بادشاہ کی نصیحت کرنا چاہے تو سب کے سامنے نہ کر ے بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے خلوت میں لے جائے اگر بادشاہ اس کی نصیحت کو قبول کر لے تو بہت اچھا ورنہ اس کی ذمہ داری پوری ہو گئی اور اے ہشام آپ بڑے جری آدمی ہیں اللہ کی طرف سے مقرر ہو نے والے بادشاہ کے سامنے بھی جرات کا مظاہرہ کرتے ہیں کیا آپ کو اس سے ڈر نہیں لگتا کہ بادشاہ آپ کو قتل کر دے اور آپ اللہ کے بادشاہ کے مقتول بن جائیں؟ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15333]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: من أراد أن ينصح لسلطان بأمر ... » فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لم يسمع شريح من عياض ولا من هشام
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: من أراد أن ينصح لسلطان بأمر ... » فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، لم يسمع شريح من عياض ولا من هشام
← پچھلی حدیث (15332) باب پر واپس اگلی حدیث (15334) →