ابْنُ نُمَيْرٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي عَيَّاشٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ؟ فَقَالَ:" أَلَيْسَ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" , قَالُوا: بَلَى , فَكَرِهَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: کیا تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ایسا نہیں ہے کہ تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم رہ جاتی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ایسا ہی ہے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نا پسندیدہ قرار دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1515]
حکم دارالسلام
إسناده قوي .
الحكم: إسناده قوي .