مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَوْنٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَبَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو عَوْنٍ ، جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، لِسَعْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , ح. وَبَهْزٌ , وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ ، قَالَ بَهْزٌ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ : شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى فِي الصَّلَاةِ , قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ مِنَ الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ، أَوْ ظَنِّي بِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ لوگوں کو آپ سے ہر چیز حتی کہ نماز کے معاملے میں بھی شکایات ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں تو پہلی دو رکعتیں نسبتا لمبی کرتا ہوں اور دوسری دو رکعتیں مختصر کر دیتا ہوں، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء میں جو نمازیں پڑھی ہیں، ان کی پیروی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے یہی امید تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1510]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 770، م: 453 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 770، م: 453 .