الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، سَعْدٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: قَال سَعْدٌ فِيَّ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّلُثَ: أَتَانِي يَعُودُنِي، قَالَ: فَقَالَ لِي:" أَوْصَيْتَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ , جَعَلْتُ مَالِي كُلَّهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ , قَالَ:" لَا تَفْعَلْ" , قُلْتُ: إِنَّ وَرَثَتِي أَغْنِيَاءُ، قُلْتُ الثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ:" لَا" , قُلْتُ فَالشَّطْرَ؟ قَالَ:" لَا" , قُلْتُ الثُّلُثَ؟ قَالَ:" الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وصیت میں ایک تہائی کی مقدار نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حوالے سے مقرر فرمائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس عیادت کے لئے تشریف لائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”کیا تم نے وصیت کر دی؟“ میں نے کہا: جی! میں نے اپنا سارا مال فقراء، مساکین اور مسافروں کے نام وقف کرنے کی وصیت کر دی ہے، فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔“ میں نے عرض کیا کہ میرے ورثاء غنی ہیں، بہرحال! میں دوتہائی کی وصیت کر دیتا ہوں؟ فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے نصف کا ذکر کیا، فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے تہائی کا ذکر کیا، فرمایا: ”ہاں! ایک تہائی صحیح ہے، اور یہ بھی زیادہ ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1501]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 56، م: 1628 .
الحكم: إسناده حسن، خ: 56، م: 1628 .