وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، مَكْحُولٍ ، سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَكُونُ حَامِيَةَ الْقَوْمِ، أَيَكُونُ سَهْمُهُ وَسَهْمُ غَيْرِهِ سَوَاءً؟ قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ سَعْدٍ، وَهَلْ تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی جو اپنی قوم میں کم حیثیت شمار ہوتا ہو، کیا اس کا اور دوسرے آدمی کا حصہ برابر ہو سکتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے، کیا کمزوروں کے علاوہ بھی کسی اور کے ذریعے تمہیں رزق ملتا اور تمہاری مدد ہوتی ہے؟“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1493]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 2896. وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مكحول لم يسمع من سعد .
الحكم: صحيح لغيره، خ: 2896. وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، مكحول لم يسمع من سعد .