بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1419
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1419
حدیث نمبر: 1419 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ، كَانَا يَسْتَقِيَانِ بِهَا كِلَاهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اسْقِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ" , فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ , وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ! فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" , فَاسْتَوْعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَأْيٍ أَرَادَ فِيهِ سَعَةً لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَوْعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ , قَالَ عُرْوَةُ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَاللَّهِ مَا أَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ ان کا ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے - جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے - نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں پانی کی اس نالی میں اختلاف رائے ہو گیا جس سے وہ دونوں اپنے اپنے کھیت کو سیراب کرتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بات کو ختم کرتے ہوئے فرمایا: زبیر! تم اپنے کھیت کو سیراب کر کے اپنے پڑوسی کے لئے پانی چھوڑ دو، انصاری کو اس پر ناگواری ہوئی اور وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! یہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں ناں اس لئے آپ یہ فیصلہ فرما رہے ہیں؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اب تم اپنے کھیت کو سیراب کرو اور جب تک پانی منڈیر تک نہ پہنچ جائے اس وقت تک پانی کو روکے رکھو۔ گویا اب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوا دیا، جبکہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ایسا مشورہ دیا تھا جس میں ان کے لئے اور انصاری کے لئے گنجائش اور وسعت کا پہلو تھا، لیکن جب انصاری نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صریح حکم کے ساتھ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: واللہ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ مندرجہ ذیل آیت اسی واقعے سے متعلق نازل ہوئی ہے: « ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [النساء: 65] » آپ کے رب کی قسم! یہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے اختلافات میں آپ کو ثالث مقرر نہ کر لیں، پھر اس فیصلے کے متعلق اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے مکمل طور پر تسلیم نہ کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1419]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح ، خ : 2708، م : 2357
الحكم: إسناده صحيح ، خ : 2708، م : 2357
← پچھلی حدیث (1418) باب پر واپس اگلی حدیث (1420) →