بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 141
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 141
أَبُو سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ الْعَنَزِيُّ بَصْرِيٌّ ، الْغَضْبَانُ بْنُ حَنْظَلَةَ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ الْعَنَزِيُّ بَصْرِيٌّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْغَضْبَانُ بْنُ حَنْظَلَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ حَنْظَلَةَ بْنَ نُعَيْمٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ، فَكَانَ عُمَرُ إِذَا مَرَّ بِهِ إِنْسَانٌ مِنَ الْوَفْدِ، سَأَلَهُ مِمَّنْ هُوَ، حَتَّى مَرَّ بِهِ أَبِي، فَسَأَلَهُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: مِنْ عَنَزَةَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" حَيٌّ مِنْ هَاهُنَا مَبْغِيٌّ عَلَيْهِمْ مَنْصُورُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
غضبان بن حنظلہ کہتے ہیں کہ ان کے والد حنظلہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک وفد لے کر حاضر ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس وفد کے جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اس کے متعلق یہ ضرور پوچھتے کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے؟ چنانچہ جب میرے والد کے پاس پہنچے تو ان سے بھی یہی پوچھا کہ آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ انہوں نے بتایا: قبیلہ عنزہ سے، تو فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ مظفر و منصور ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 141]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الغضبان بن حنظلة وأبيه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الغضبان بن حنظلة وأبيه
← پچھلی حدیث (140) باب پر واپس اگلی حدیث (142) →