عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ :" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالَ: أَيْ قَوْمِ، أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا، لَيُعْطِي عَطَاءَ مَنْ لَا يَخَافُ الْفَاقَةَ، وَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَجِيءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُمْسِي حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ أَعَزَّ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا بِمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازو سامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2312
الحكم: إسناده صحيح، م: 2312