عَفَّانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ رَجُلًا، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، حَتَّى يَكُونَ الْآخَرُ قَدْ ذَاقَ مِنْ عُسَيْلَتِهَا، وَذَاقَتْ مِنْ عُسَيْلَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص کے نکاح میں ایک عورت تھی، جسے اس نے تین طلاقیں دے دیں، اس عورت نے ایک دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس دوسرے آدمی نے اسے خلوت صحیحہ سے پہلے ہی طلاق دے دی، کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ عورت دوسرے شوہر کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 14024]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار الطاحي العبدي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن دينار الطاحي العبدي