بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1387
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1387
حدیث نمبر: 1387 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ ، دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ ، طَلْحَةُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ , أَنَّهُ مَرَّ هُوَ وَرَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو يُوسُفَ مِنْ بَنِي تَيْمٍ، عَلَى رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ لَهُ أَبُو يُوسُفَ: إِنَّا لَنَجِدُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنَ الْحَدِيثِ مَا لَا نَجِدُهُ عِنْدَكَ , فَقَالَ: أَمَا إِنَّ عِنْدِي حَدِيثًا كَثِيرًا، وَلَكِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ الْهُدَيْرِ , قَالَ: وَكَانَ يَلْزَمُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ , قَالَ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لَهُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: قَالَ لِي طَلْحَةُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ، قَالَ: فَدَنَوْنَا مِنْهَا، فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ؟ قَالَ:" قُبُورُ أَصْحَابِنَا" , ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
داؤد بن خالد بن دینار کہتے ہیں کہ ان کا اور بنو تیم کے ایک شخص کا - جس کا نام ابویوسف تھا - ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کے پاس سے گذر ہوا، ابویوسف نے ان سے کہا کہ ہمیں آپ کے علاوہ دیگر حضرات کے پاس ایسی احادیث مل جاتی ہیں جو آپ کے پاس نہیں ملتیں؟ انہوں نے فرمایا کہ احادیث تو میرے پاس بھی بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے ربیعہ بن ہدیر کو - جو کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چمٹے رہتے تھے - یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو سوائے ایک حدیث کے کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ایک حدیث کون سی ہے؟ تو بقول ربیعہ کے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم حرہ واقم نامی جگہ پر (جو کہ مدینہ منورہ میں ایک ٹیلہ ہے) پہنچے اور اس کے قریب ہوئے تو ہمیں کمان کی طرح خمدار کچھ قبریں دکھائی دیں، ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے اصحاب کی قبریں ہیں، پھر ہم وہاں سے نکل کر جب شہداء کی قبروں پر پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے بھائیوں کی قبریں یہ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1387]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (1386) باب پر واپس اگلی حدیث (1388) →