عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ : أَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، ثُمّ قَالَ:" أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشَاءَ الْآخِرَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمْ الصَّلَاةَ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ، وَرَفَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کردیا اور فرمایا لوگ نماز پڑھ کر سوگئے لیکن تم نے جتنی دیر تک نماز کا انتظار کیا، تم نماز ہی میں شمار ہوئے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے اور انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ بلند کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 572، م: 640
الحكم: إسناده صحيح، خ: 572، م: 640