بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13756
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13756
حدیث نمبر: 13756 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَسَنٌ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، أَنَّ يَهُودِيًّا أَخَذَ أَوْضَاحًا عَلَى جَارِيَةٍ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَيْهَا فَرَضَّ رَأْسَهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَأَدْرَكُوا الْجَارِيَةَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَأَخَذُوهَا، وَجَعَلُوا يَتْبَعُونَ بِهَا النَّاسَ، أَهَذَا هُوَ؟ أَوْ هَذَا هُوَ؟ فَأَتَوْا بِهَا عَلَى الرَّجُلِ، فَأَوْمَتْ إِلَيْهِ بِرَأْسِهَا" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصار بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، جب اس بچی کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق باقی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کا نام لے کر اس سے پوچھا کہ تمہیں فلاں آدمی نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارے سے کہا نہیں، دوسری مرتبہ بھی یہی ہوا، تیسری مرتبہ اس نے کہا ہاں! تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس یہودی کو دو پتھروں کے درمیان قتل کروا دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13756]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1672
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6885، م: 1672
← پچھلی حدیث (13755) باب پر واپس اگلی حدیث (13757) →