حُسَيْنٌ ، جَرِيرٌ بْنَ حَازِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ بْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" فَزِعَ النَّاسُ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ بَطِيئًا، ثُمَّ خَرَجَ يَرْكُضُ وَحْدَهُ، فَرَكِبَ النَّاسُ يَرْكُضُونَ خَلْفَهُ، فَقَالَ: لَمْ تُرَاعُوا إِنَّهُ لَبَحْرٌ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک سست رفتار گھوڑے پر سوار ہوئے اور اکیلے ہی اسے ایڑ لگا کر نکل پڑے، لوگ بھی سوار ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس چلے آرہے ہیں اور لوگوں سے کہتے جا رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں، مت گھبراؤ اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا، واللہ اس کے بعد اس سے کوئی گھوڑا آگے نہ بڑھ سکا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13747]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2969، م: 2307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2969، م: 2307