حُسَيْنٌ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَرَدِيفُهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، إِذْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَعْدَيْكَ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَعْدَيْكَ، قَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ" حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، قَالَ: فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟ قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ: أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سواری پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور ان دونوں کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کے علاوہ کوئی اور چیز حائل نہ تھی، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ کچھ وقفے سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کا نام لے کر پکارا اور انہوں نے دونوں مرتبہ کہا " لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وسعدیک " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں، کیا تم یہ جانتے ہو کہ بندے جب یہ کام کرلیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13742]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 128، م: 32
الحكم: إسناده صحيح، خ: 128، م: 32