بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 13626
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 13626
حدیث نمبر: 13626 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ :" أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهَا تَذَبْذَبَانِ مِنْ طُولِهِمَا، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَلْتَمِسُونَهَا، وَيَقُولُونَ: أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ مِنَ السَّمَاءِ؟ قَالَ: وَمَا يُعْجِبُكُمْ مِنْهَا؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ، قَالَ: فَلَبِسَهَا جَعْفَرٌ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: ابْعَثْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ روم کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ " جس میں سونے کا کام ہوا تھا " بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہن لیا، لمبا ہونے کی وجہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا یہ آپ پر آسمان سے اترا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے صرف رومال ہی اس سے بہت بہتر ہیں پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ جبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس بھجوا دیا، انہوں نے اسے پہن لیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ میں نے تمہیں پہننے کے لئے نہیں دیا، انہوں نے پوچھا کہ پھر میں اس کا کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی نجاشی کے پاس بھیج دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13626]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ومتنه منکر، تفرد بھذا السياقه علي بن زید بن جدعان، وھو ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف ومتنه منکر، تفرد بھذا السياقه علي بن زید بن جدعان، وھو ضعيف
← پچھلی حدیث (13625) باب پر واپس اگلی حدیث (13627) →