عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو رَبِيعَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ، فَقَالَ: كَفَّارَةٌ وَطَهُورٌ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: بَلْ حُمَّى تَفُورُ، عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ، تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَرَكَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی دیہاتی کی عیادت کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے " جسے بخار چڑھ گیا تھا " اور فرمایا کہ ان شاء اللہ یہ بخار تمہارے گناہوں کا کفارہ اور باعث طہارت ہوگا، وہ دیہاتی کہنے لگا کہ نہیں، یہ تو جوش مارتا ہوا بخار ہے جو ایک بوڑھے آدمی پر آیا ہے اور اسے قبر دکھا کر ہی چھوڑے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اسے چھوڑا اور کھڑے ہوگئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13616]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وله شاهد من حديث ابن عباس فى البخاري:3616
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وله شاهد من حديث ابن عباس فى البخاري:3616