عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَنَسًا وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ، قَالَ: فَقَالَ يَوْمًا: كُلُوا،" فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا رَقِيقًا، وَلَا شَاةً سَمِيطًا، حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13610]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5385
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5385