عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى أُمَّ حَرَامٍ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ، فَقَالَ:" رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ، وَهَذَا فِي سِقَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ثُمَّ" قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا، فَأَقَامَ أُمَّ حَرَامٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا، وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فِيمَا يَحْسَبُ ثَابِتٌ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا تَطَوُّعًا عَلَى بِسَاطٍ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً، خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَمَا تَرَكَ يَوْمَئِذٍ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَلَا الْآخِرَةِ، إِلَّا دَعَا لِي بِهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ"، قَالَ أَنَسٌ: فَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أَنِّي قَدْ دَفَنْتُ مِنْ صُلْبِي بِضْعًا وَتِسْعِينَ، وَمَا أَصْبَحَ فِي الْأَنْصَارِ رَجُلٌ أَكْثَرَ مِنِّي مَالًا، ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: يَا ثَابِتُ، مَا أَمْلِكُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا خَاتَمِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام حرام رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لائے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور گھی پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن روزے سے تھے اس لئے فرمایا کہ کھجوریں اس کے برتن میں اور گھی اس کی بالٹی میں ڈال دو، پھر گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، ہم نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے لئے دعاء فرمائی، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میری ایک خاص چیز بھی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے؟ عرض کیا آپ کا خادم انس، اسی پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی کوئی خیر ایسی نہ چھوڑی جو میرے لئے نہ مانگی ہو اور فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطاء فرما اور ان میں برکت عطاء فرما، چنانچہ اس کے بعد انصار میں سے کوئی شخص مجھ سے زیادہ مالدار نہ تھا، حالانکہ قبل ازیں وہ اپنی انگوٹھی کے علاوہ کسی سونا چاندی کے مالک نہ تھے اور خود کہتے ہیں کہ مجھے میری بڑی بیٹی امینہ نے بتایا ہے کہ حجاج بن یوسف کے آنے تک میری نسل میں سے ایک سو بیس سے زائد آدمی فوت ہو کر دفن ہوچکے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1982، م: 2480
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1982، م: 2480