هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ الْمُنَافِقِ؟ يَدَعُ الْعَصْرَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَى قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا نَقَرَاتِ الدِّيكِ، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے متعلق نہ بتاؤں؟ منافق نماز عصر کو چھوڑے رکھتا ہے، حتیٰ کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور چار ٹھونگیں مار کر اس میں اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13589]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 622
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 622