عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ اللَّهَ لَنَا، قَالَ: فَاسْتَسْقَى، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، قَالَ: فَأُمْطِرْنَا، فَمَا جَعَلَتْ تُقْلِعُ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ، قَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْفَعَهَا عَنَّا، قَالَ: فَدَعَا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى السَّحَابِ يُسْفِرُ يَمِينًا وَشِمَالًا، وَلَا يُمْطِرُ مِنْ جَوْفِهَا قَطْرَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش کی دعاء کر دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے، اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا اور جب بارش شروع ہوئی تو رکتی ہوئی نظر نہ آئی، جب اگلا جمعہ ہوا تو اسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بارش رکنے کی دعاء کردیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ سے دعاء کی اور میں نے دیکھا کہ بادل دائیں بائیں چھٹ گئے اور مدینہ کے اندر ایک قطرہ بھی نہیں ٹپک رہا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1015، م: 897
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1015، م: 897