مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ:" كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ، خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا، فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ، وَقَالَتْ: ابْنِي ابْنِي، قَالَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا، وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چند صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چنانچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا، میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھا لیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں خاموش کروایا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13467]
الحكم: إسناده صحيح