يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمْ يَبْلُغْ عَمَلَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ"، قَالَ حَسَنٌ: أَعْمَالَهُمْ، قَالَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، قَالَ ثَابِتٌ: فَكَانَ أَنَسٌ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: اللَّهُمَّ فَإِنَّا نُحِبُّكَ وَنُحِبُّ رَسُولَكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ اے اللہ! ہم تجھ سے اور تیرے رسول سے محبت کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.