يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَبِقَدْرِ مَا يَنْحَرُ الرَّجُلُ الْجَزُورَ، وَيُبَعِّضُهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ. وَكَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ اگر کوئی شخص بنو حارثہ بن حارث کے یہاں جاتا تو وہ غروب آفتاب سے پہلے واپس آسکتا تھا اور اتنا وقت ہوتا تھا کہ اگر کوئی آدمی اونٹ کو ذبح کرلے تو غروب آفتاب تک اس کے حصے بنا لیتا اور نماز جمعہ زوال کے وقت پڑھتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تھے تو ظہر کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13384]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ - مختصرا -: 904، م: 624
الحكم: إسناده حسن، خ - مختصرا -: 904، م: 624