هَاشِمٌ ، عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، قَالَ: كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ أَنْكَحَنِي مِنَ السَّمَاءِ، وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَكَانَ الْقَوْمُ جُلُوسًا كَمَا هُمْ فِي الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ، فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ، ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ كَمَا هُمْ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَعُرِفَ فِي وَجْهِهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ دیگر ازواج مطہرات پر فخر کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ اللہ نے آسمان پر میرا نکاح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ولیمے میں روٹی اور گوشت کھلایا تھا، کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر ہی میں بیٹھے رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کر چلے گئے، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد واپس آئے تو لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے، یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بڑی ناگوار لگی اور چہرہ مبارک پر اس کے آثار ظاہر ہوگئے اور اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7421، م: 1428.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7421، م: 1428.