عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، أَعْيَنَ الْبَصْرِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَعْيَنَ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا، فَعَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَى رَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے ورثاء کے لئے مال چھوڑ جائے، وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو قرض چھوڑ جائے اس کی ادائیگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذمے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13251]
حکم دارالسلام
صحيح، لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أعين البصري
الحكم: صحيح، لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أعين البصري