مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرَ مَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ أَوْ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ، شَكَّ سَعِيدٌ فَجَعَلُوا يَتَوَضئَُونَ، وَالْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ: قُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ: ثَلَاثَ مِائَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام زوراء میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ لایا گیا جس میں آپ کی انگلی بھی مشکل سے کھلتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جوڑ لیا اور اس میں سے اتنا پانی نکلا کہ سب نے وضو کرلیا، کسی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ تین سو تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13244]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2279، وانظر: 16694
الحكم: إسناده صحيح، م: 2279، وانظر: 16694