ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ مَعْصُوبُ الرَّأْسِ، قَالَ: فَتَلَقَّاهُ الْأَنْصَارُ وَنِسَاؤُهُمْ وَأَبْنَاؤُهُمْ، فَإِذَا هُوَ بِوُجُوهِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ" وَقَالَ:" إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوْا مَا عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ مَا عَلَيْكُمْ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکلے تو انصار سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، میں تم سے محبت کرتا ہوں، تم انصار کے نیکوں کی نیکی قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز کرو، کیونکہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے اور ان کا حق باقی رہ گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13137]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3799، م: 2510.