يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، أَنَسٌ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْنَا، قَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین سے فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگیں اے انس! کیا تمہارے دلوں نے اس بات کو گوارا کرلیا کہ تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مٹی تلے دفن کردو اور خود واپس آجاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 13117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4462، وانظر: 12434.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4462، وانظر: 12434.