يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرٍ ، الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ، وَلَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ، فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا، فَأَبَى عَلَيَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سفر میں چاشت کی آٹھ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے شوق اور خوف والی نماز پڑھی، میں نے اپنے پروردگار سے تین چیزوں کی درخواست کی، اس نے مجھے دو چیزیں عطاء فرما دیں اور ایک سے روک دیا، میں نے یہ درخواست کی کہ میری امت قحط سالی میں مبتلاء ہو کر ہلاک نہ ہو، اللہ نے منظور کرلیا، میں نے دوسری درخواست کی کہ دشمن کو ان پر مکمل غلبہ نہ دیا جائے، اللہ نے اسے بھی منظور کرلیا، پھر میں نے تیسری درخواست یہ پیش کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ ہونے دیا جائے لیکن اللہ نے اسے منظور نہیں کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12589]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك القرشي كما سلف برقم: 12486، ولضعف رشدين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الضحاك القرشي كما سلف برقم: 12486، ولضعف رشدين