حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٌ ، جَابِرٍ ، خَيْثَمَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَقَالَ لَهُ:" يَا زَيْدُ، لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ، كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ؟" قَالَ: إِذًا أَصْبِرَ وَأَحْتَسِبَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لِمَا بِهِ، ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ، لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لَكَ ذَنْبٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا زید! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں وہاں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12586]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وجابر الجعفي، وخيثمة أبى نصر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك النخعي، وجابر الجعفي، وخيثمة أبى نصر