أَبُو سَعِيدٍ ، أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسًا
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يَعْنِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: هَلْ سَأَلْتَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ؟، قَالَ ثَابِتٌ سَأَلْتُ أَنَسًا هَلْ شَمِطَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: لَقَدْ قَبَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولَهُ وَمَا فَضَحَهُ بِالشَّيْبِ،" مَا كَانَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ يَوْمَ مَاتَ ثَلَاثُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ"، فَقِيلَ لَهُ: أَفَضِيحَةٌ هُوَ؟، قَالَ: أَمَّا أَنْتُمْ فَتَعُدُّونَهُ فَضِيحَةً، وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نَعُدُّهُ زَيْنًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال سفید ہوگئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس وقت اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس بلایا، اس وقت تک انہیں بالوں کی سفیدی سے شرمندہ نہ ہونے دیا، وصال کے دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر اور ڈاڑھی میں تیس بال بھی سفید نہ تھے، کسی نے پوچھا کہ بالوں کا سفید ہونا باعث شرمندگی ہے؟ تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اسے شرمندگی کا سبب سمجھتے ہو، ہم تو اسے سبب زینت سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12474]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2341
الحكم: إسناده صحيح، م: 2341