بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 12431
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 12431
حدیث نمبر: 12431 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَابِتٌ البُنَانِيُّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ البُنَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى حَفْصَةَ ابْنَةِ عُمَرَ رَجُلًا، فَقَالَ لها:" احْتَفِظِي بِهِ"، قَالَ: فَغَفَلَتْ حَفْصَةُ، وَمَضَى الرَّجُلُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" يَا حَفْصَةُ، مَا فَعَلَ الرَّجُلُ؟"، قَالَتْ: غَفَلْتُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَخَرَجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَطَعَ اللَّهُ يَدَكِ"، فَرَفَعَتْ يَدَيْهَا هَكَذَا، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا شَأْنُكِ يَا حَفْصَةُ؟"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ: قَبْلُ لِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهَا:" ضَعِي يَدَيْكِ، فَإِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّمَا إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ، أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ مَغْفِرَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا اور فرمایا کہ اس کی نگرانی کرنا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ غافل ہوئیں تو وہ آدمی کھسک گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے تو پوچھا حفصہ! وہ آدمی کیا ہوا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں غافل ہوگئی اور وہ بھاگ گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کرے تمہارے ہاتھ ٹوٹ جائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانے کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اونچے کر لئے، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ آئے تو پوچھا حفصہ! تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے کچھ دیر پہلے مجھے ایسے ایسے کہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے ہاتھ کھول لو، میں نے اللہ سے یہ کہہ رکھا ہے کہ میں اپنی امت میں سے جس شخص کو کوئی بددعاء دوں وہ اسے اس کے حق میں مغفرت کا سبب بنا دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2603 نحو هذا الدعاء
الحكم: إسناده صحيح، م: 2603 نحو هذا الدعاء
← پچھلی حدیث (12430) باب پر واپس اگلی حدیث (12432) →