أَبُو عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً لِيَسْتَطِيبَ بِهَا، فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، قَالَ:" زِنْهَا"، فَوَزَنَهَا فَإِذَا مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا رِكَازٌ، وَفِيهِ الْخُمُسُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے، ہمارا ایک ساتھی وہاں ایک ویرانے میں قضاء حاجت کے لئے گیا، اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو وہاں سے چاندی کا ایک ٹکڑا گرا، اس نے وہ اٹھالیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا اور سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے تو لو، اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کے برابر بنا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ رکاز ہے اور اس میں پانچواں حصہ واجب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 12298]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد ، وهو ابن أسلم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالرحمن بن زيد ، وهو ابن أسلم