سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ ، فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ، فَضَرَبَهَا، وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ، احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْأَلْ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ"، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دعوت کی، ان کی زوجہ محترمہ نے انہیں دعوت میں جانے سے روکا، انہیں یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے اپنی بیوی کو مارا، پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث! تین باتیں یاد رکھو جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سن کر یاد کی ہیں۔ کسی شخص سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے؟ وتر پڑھے بغیر مت سویا کرو۔ تیسری بات میں بھول گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 122]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن المسلي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن المسلي