بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قریش کی حکومت کی بقا کا بیان
Mujam Saghir al-Tabarani
کتب المعجم الصغیر للطبرانی مناقب کا بیان قریش کی حکومت کی بقا کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 849 المعجم الصغیر للطبرانی
إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ ، مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ ، عَوْفٌ ، أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ ، بِمَكَّةَ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَيْتٍ فِيهِ نَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ، ثُمَّ قَالَ:"هَلْ فِي الْبَيْتِ إِلا قُرَشِيٌّ؟، قَالُوا: لا، إِلا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ: ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا الأَمْرَ لا يَزَالُ فِي قُرَيْشٍ مَا إِذَا اسْتُرْحِمُوا رَحِمُوا، وَإِذَا حَكَمُوا عَدَلُوا، وَإِذَا أَقْسَمُوا أَقْسَطُوا، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ"، لا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گھر پر کھڑے ہوئے جس میں قریش کی ایک جماعت تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دروازے کی دونوں چوکھٹیں پکڑیں اور کہا: کیا قریش کے بغیر کوئی گھر میں ہے؟ انہوں نے کہا: اور کوئی نہیں ہے، مگر ایک ان کا بھانجا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی قوم کا بھانجا بھی انہی میں سے ہوتا ہے۔ پھر فرمایا: یہ معاملہ ہمیشہ قریش میں رہے گا جب تک کہ اگر ان سے رحم کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ رحم کرتے رہے اور جب تک وہ فیصلہ کریں گے تو انصاف سے کریں گے۔ اگر تقسیم کریں گے تو انصاف سے کریں گے، اور جو ان میں سے یہ کام نہ کرے گا تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔ [معجم صغير للطبراني/كِتَابُ الْمَنَاقِبُ/حدیث: 849]
تخریج الحدیث
«إسناده صحيح، أخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 2563، والطبراني فى «الصغير» برقم: 216
قال الهيثمي: رجاله ثقات، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (5 / 194)»
الحكم على الحديث
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح