بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صور پھونکے جانے کا بیان
Mujam Saghir al-Tabarani
کتب المعجم الصغیر للطبرانی قیامت کا بیان صور پھونکے جانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 750 المعجم الصغیر للطبرانی
أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْحَمْرَاوِيُّ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ الرُّوَاسِيُّ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْحَمْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ الرُّوَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، إِلا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَلا رَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ، إِلا زُهَيْرٌ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے بے غم ہو سکتا ہوں حالانکہ اسرافیل علیہ السلام قرن میں پھونکنے والے اسے منہ میں ڈالے اور پیشانی جھکائے انتظار کر رہے ہیں کہ کب اسے حکم ہوتا ہے اور وہ اس میں پھونکیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم یوں کہو: «حسبنا اللہ ونعم الوکیل» اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔ [معجم صغير للطبراني/كِتَابُ صِفَةُ الْقِيَامَةِ/حدیث: 750]
تخریج الحدیث
«إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 823، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8775، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2431، 3243، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4273، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11196، والحميدي فى «مسنده» برقم: 771، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2000، والطبراني فى «الصغير» برقم: 45، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 544»
الحكم على الحديث
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح