بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
محسن کا شکریہ ادا کرنے کی اہمیت کا بیان
Mujam Saghir al-Tabarani
کتب المعجم الصغیر للطبرانی ادب کا بیان محسن کا شکریہ ادا کرنے کی اہمیت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 690 المعجم الصغیر للطبرانی
ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلانِيُّ ، أَبُو عِصَامٍ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، أَبِي الزُّعَيْزَعَةِ ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، مَكْحُولٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ذَاكِرُ بْنُ شَيْبَةَ الْعَسْقَلانِيُّ ، بِقَرْيَةِ عَجَّسَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ أَبِي الزُّعَيْزَعَةِ ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا يَقُولُ لِي: يَا عَائِشَةُ، مَا فَعَلَتْ أَبْيَاتُكِ؟، فَأَقُولُ: وَأَيُّ أَبْيَاتِي تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهَا كَثِيرَةٌ؟، فَيَقُولُ: فِي الشُّكْرِ، فَأَقُولُ: نَعَمْ بِأَبِي وَأُمِّي، قَالَ الشَّاعِرُ: ادْفَعْ ضَعِيفَكَ لا يَحُرْ بِكَ ضَعْفُهُ يَوْمًا فَتُدْرِكَهُ الْعَوَاقِبُ قَدْ نَمَا يُجْزِيكَ أَوْ يُثْنِي عَلَيْكَ وَإِنَّ مَنْ أَثْنَى عَلَيْكَ بِمَا فَعَلْتَ كَمَنْ جَزَى إِنَّ الْكَرِيمَ إِذَا أَرَدْتَ وِصَالَهُ لَمْ تَلْفَ رَثًّا حَبْلَهُ وَاهِي الْقُوَى قَالَتْ: فَيَقُولُ:" يَا عَائِشَةُ، إِذَا حَشَرَ اللَّهُ الْخَلائِقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ: لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِهِ اصْطَنَعَ إِلَيْهِ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِهِ مَعْرُوفًا هَلْ شَكَرْتَهُ؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، عَلِمْتُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْكَ فَشَكَرْتُكَ عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: لَمْ تَشْكُرْنِي إِذَا لَمْ تَشْكُرْ مَنْ أَجْرَيْتُ ذَلِكَ عَلَى يَدَيْهِ"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِلا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر مجھے فرماتے: عائشہ! تیرے وہ شعر کون سے ہیں؟ میں کہتی: آپ کون سے اشعار پوچھنا چاہتے ہیں؟ شعر تو بہت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: جو شکر کے متعلق ہیں۔ تو میں کہتی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، وہ یہ ہیں، شاعر کہتا ہے: اپنے کمزور کو اس طرح واپس کریں کہ اس کی کمزوری تجھے کسی دن بھی پریشان نہ کرے، تو اچھے انجام اس کے بڑھ جائیں گے۔ وہ کمزور تمہیں اس کی جزا اور بدلہ دے گا، تیری تعریف کرے گا، تیرے کام پر اس کا تیری تعریف کرنا بھی بدلہ دینے کی طرح ہے۔ اچھے آدمی سے جب تو حسن سلوک کرے گا تو اس کی بھی ڈول کی رسی کمزور نہیں ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: عائشہ! جب قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مخلوقات کو جمع کرے گا تو اپنے بندوں میں سے ایک ایسے بندے سے فرمائے گا جس کے ساتھ کسی نے نیکی کی ہو گی کہ کیا تو نے اپنے محسن کا شکریہ ادا کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے یہ سمجھ کر کہ یہ تیری طرف سے ہے، میں نے تیرا شکریہ ادا کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے میرا شکریہ ادا نہیں کیا جب کہ تو نے اس شخص کا شکریہ بھی ادا نہیں کیا جس کے ہاتھوں پر میں نے تجھ پر اپنا احسان جاری کیا۔ [معجم صغير للطبراني/کتاب الادب/حدیث: 690]
تخریج الحدیث
«إسناده ضعيف، أخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3580، والطبراني فى «الصغير» برقم: 454
قال الهيثمي: وفيه ذاكر بن شيبة العسقلاني ضعفه الأزدي، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (8 / 180)»
الحكم على الحديث
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف